بریکنگ نیوز
وینٹیج ایکس نیوز میں خوش آمدید — پاکستان کی سب سے تیز خبریں تازہ ترین خبروں کے لیے وینٹیج ایکس نیوز کو فالو کریں وینٹیج ایکس نیوز میں خوش آمدید — پاکستان کی سب سے تیز خبریں
PKR/USD282.50▲ 0.3%
KSE-100115,420▲ 1.2%
CRUDE OIL$78.20▼ 0.8%
GOLD$1,986▲ 0.5%
PKR/SAR75.30▼ 0.1%
PKR/AED76.90▲ 0.2%
PKR/USD282.50▲ 0.3%
KSE-100115,420▲ 1.2%
پاکستان

کراچی میں پولیو ورکرز کو مشکلات کا سامنا

👁 6 مناظر
کراچی میں پولیو ورکرز کو مشکلات کا سامنا

**کراچی میں پولیو ورکرز کو مشکلات کا سامنا، ویکسینیشن مہم متاثر**

کراچی: ملک بھر میں پولیو کے خاتمے کے لیے جاری مہم کے باوجود، کراچی کے کم آمدنی والے علاقوں میں پولیو ورکرز کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق، ویکسینیٹرز کو بچوں تک پہنچنے میں کئی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس کی وجہ سے پولیو کے خاتمے کی کوششوں میں خلل آ رہا ہے۔

پولیو ورکرز کا کہنا ہے کہ انہیں اکثر والدین کی جانب سے انکار اور بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک ویکسینیٹر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ “ہمیں اپنے ساتھیوں کا انتظار کرنا پڑتا ہے تاکہ ہم ایک ساتھ مل کر مہم چلا سکیں۔ بعض اوقات تو ہمیں خوف و ہراس کی وجہ سے بھی کام کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔” یہ صورتحال اس بات کا اشارہ کرتی ہے کہ عوام میں پولیو ویکسین کے حوالے سے آگاہی کی کمی موجود ہے، جو کہ اس خطرناک بیماری کے خاتمے کی کوششوں کو متاثر کر رہی ہے۔

پاکستان میں پولیو کے کیسز میں کمی لانے کے لیے حکومت کی جانب سے متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں، مگر کچھ والدین اب بھی اپنے بچوں کو ویکسین لگوانے سے انکار کر رہے ہیں۔ اس انکار کی وجوہات میں مذہبی عقائد، غلط معلومات، اور صحت کی سہولیات تک رسائی کی کمی شامل ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف بچوں کی صحت کے لیے خطرہ ہے بلکہ پورے معاشرے کے لیے بھی ایک چیلنج بن چکی ہے۔

پولیو ورکرز کی مشکلات اور والدین کی جانب سے ویکسین کے خلاف انکار نے حکومت کی پولیو کے خاتمے کی مہم کو متاثر کیا ہے۔ اس کے علاوہ، بین الاقوامی صحت کے ادارے بھی اس مسئلے پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں، کیونکہ پولیو کا خاتمہ صرف پاکستان کے لیے نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک اہم چیلنج ہے۔

حکومت کو چاہیے کہ وہ عوامی آگاہی مہمات کا آغاز کرے تاکہ والدین کو پولیو ویکسین کی اہمیت اور اس کے فوائد سے آگاہ کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ، مقامی کمیونٹی کی شمولیت کو بھی فروغ دینا ضروری ہے تاکہ لوگوں کے دلوں میں ویکسین کے حوالے سے موجود خوف اور شکوک و شبہات کو دور کیا جا سکے۔ اگر یہ اقدامات بروقت نہ کیے گئے تو پولیو کے خاتمے کی کوششیں مزید متاثر ہو سکتی ہیں، جس کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

اس صورتحال میں عوامی تعاون اور حکومت کی موثر حکمت عملی کی ضرورت ہے تاکہ نہ صرف پولیو کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل کی جا سکے بلکہ بچوں کی صحت کو بھی محفوظ بنایا جا سکے۔

📺 تازہ ترین خبروں کے لیے وینٹیج ایکس نیوز کو فالو کریں — @VantageXNews | vantagexnews.pk