
**ڈاکٹر مہنور کا کوئٹہ میں ایسڈ حملے پر بیان: خواتین کے حقوق کی جدوجہد جاری رہے گی**
کوئٹہ: پاکستان میں خواتین کے خلاف تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کے تناظر میں، ڈاکٹر مہنور نے حال ہی میں کوئٹہ میں ہونے والے ایسڈ حملے کے بعد اپنی خاموشی توڑتے ہوئے ایک اہم بیان جاری کیا ہے۔ یہ واقعہ 55 دن قبل پیش آیا جب ڈاکٹر مہنور پر حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں انہیں بار بار سرجریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے اس دوران 12 سرجریاں کروائیں، جو ان کی زندگی کا ایک خوفناک تجربہ رہا۔
ڈاکٹر مہنور نے اس حملے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کے لیے ایک انتہائی خوفناک تجربہ تھا، لیکن انہوں نے اس چیلنج کا سامنا کرتے ہوئے خود کو مضبوط بنایا۔ انہوں نے کہا، “یہ واقعہ میرے لیے ایک امتحان تھا، لیکن میں نے اس سے سبق سیکھا اور اب میں مزید مضبوط ہو چکی ہوں۔” ان کا یہ عزم کہ وہ خواتین کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتی رہیں گی، اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اس حملے کے باوجود ہار نہیں مانیں گی۔
یہ واقعہ نہ صرف ڈاکٹر مہنور کی زندگی پر اثر انداز ہوا بلکہ اس نے پورے ملک میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے ایک بار پھر بحث کا آغاز کر دیا ہے۔ پاکستان میں خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، اور اس واقعے نے اس مسئلے کی سنگینی کو اجاگر کیا ہے۔ ڈاکٹر مہنور نے کہا کہ اس حملے کے بعد انہیں احساس ہوا کہ خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔
انہوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے لیے موثر قوانین نافذ کریں اور ان کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔ ڈاکٹر مہنور نے اس بات پر زور دیا کہ معاشرتی رویوں میں تبدیلی اور آگاہی کی ضرورت ہے تاکہ خواتین کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔
ڈاکٹر مہنور کا یہ عزم کہ وہ خواتین کے حقوق کی جدوجہد جاری رکھیں گی، نہ صرف ان کی ذاتی کہانی ہے بلکہ یہ ایک تحریک بھی ہے جو دیگر خواتین کو حوصلہ دے سکتی ہے۔ ان کے اس عزم سے یہ پیغام ملتا ہے کہ خواتین کو اپنے حقوق کے لیے لڑنا چاہیے اور کسی بھی قسم کے تشدد کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔
اس واقعے نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ پاکستان میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے مزید کوششیں درکار ہیں، اور ڈاکٹر مہنور کی کہانی اس جدوجہد کا ایک اہم حصہ بن چکی ہے۔ ان کی ہمت اور عزم اس بات کا ثبوت ہے کہ خواتین کسی بھی چیلنج کا سامنا کر سکتی ہیں، اور ان کی آواز کو سننا بہت ضروری ہے۔
📺 تازہ ترین خبروں کے لیے وینٹیج ایکس نیوز کو فالو کریں — @VantageXNews | vantagexnews.pk