
**پٹرولیم ڈیلرز نے حکومت کو 72 گھنٹے کا الٹی میٹم دے دیا**
کراچی: پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن (پی پی ڈی اے) نے حکومت کو 72 گھنٹے کا الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ان کے مطالبات پورے نہیں کیے گئے تو وہ ملک بھر میں ہڑتال پر جائیں گے۔ پی پی ڈی اے کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ حکومت نے ان سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری نہیں کی، جس کی وجہ سے انہیں یہ سخت اقدام اٹھانے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔
ایسوسی ایشن کے رہنماؤں نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ حکومت نے پٹرولیم ڈیلرز کے مسائل کو حل کرنے کے لیے جو وعدے کیے تھے، ان میں سے کوئی بھی عملی شکل نہیں اختیار کر سکا۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ حکومت سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں، لیکن اگر ان کے مطالبات پر غور نہیں کیا گیا تو ہڑتال کا راستہ اختیار کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں کریں گے۔
پی پی ڈی اے کے مطابق، ان کے مطالبات میں قیمتوں میں اضافے کے خلاف تحفظات، کمیشن کی شرح میں بہتری، اور دیگر مالی مسائل شامل ہیں۔ ایسوسی ایشن نے یہ بھی کہا کہ اگر ہڑتال کی صورت میں پٹرول کی فراہمی متاثر ہوتی ہے تو اس کا براہ راست اثر عوام پر پڑے گا، جو پہلے ہی مہنگائی اور معاشی مسائل کا شکار ہیں۔
حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ پٹرولیم ڈیلرز کے مسائل کو حل کرنے کے لیے سنجیدہ ہے اور مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ اس الٹی میٹم کے بعد حکومت اور پٹرولیم ڈیلرز کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ تاہم، عوام میں اس صورتحال کے باعث بے چینی پائی جاتی ہے، کیونکہ ہڑتال کی صورت میں پٹرول کی فراہمی میں خلل پڑ سکتا ہے، جو کہ روزمرہ زندگی کے لیے انتہائی اہم ہے۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پٹرولیم ڈیلرز کی ہڑتال کا اثر صرف پٹرول کی دستیابی تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ اس سے ملک کی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ کاروباری سرگرمیاں متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ، عوام کو روزمرہ کی ضروریات کی خریداری میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس صورتحال کے پیش نظر، عوام اور کاروباری حلقے دونوں ہی اس معاملے کی نگرانی کر رہے ہیں اور امید کر رہے ہیں کہ حکومت اور پٹرولیم ڈیلرز کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوں گے تاکہ ہڑتال کی نوبت نہ آئے اور عوام کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
📺 تازہ ترین خبروں کے لیے وینٹیج ایکس نیوز کو فالو کریں — @VantageXNews | vantagexnews.pk