
**پاکستان کا حکومتی قرضہ 83.6 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا**
پاکستان کا مرکزی حکومتی قرضہ مالی سال 2026 کے اختتام تک 83.642 ٹریلین روپے تک پہنچنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جو کہ ملک کی معیشت کے لیے ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ یہ قرضہ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 7.4 فیصد کے اضافے کے ساتھ بڑھا ہے، جس کی بنیادی وجہ مالی خسارہ قرار دی جا رہی ہے۔
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق، ملکی قرضہ 9 فیصد جبکہ بیرونی قرضہ 3 فیصد کی شرح سے بڑھا ہے۔ مالی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بڑھتے ہوئے قرضے کے اثرات ملکی معیشت پر منفی پڑ سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں اقتصادی ترقی کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے۔ ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ حکومت کو فوری طور پر مالیاتی اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ اس بڑھتے ہوئے قرضے کی سطح کو کنٹرول کیا جا سکے۔
پاکستان کی معیشت، جو پہلے ہی کئی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، اس بڑھتے ہوئے قرضے کے بوجھ تلے دبتی جا رہی ہے۔ ملک میں مہنگائی کی شرح میں اضافہ، زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی اور تجارتی خسارہ جیسے مسائل نے معیشت کی بنیادوں کو کمزور کر دیا ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر، ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے فوری اقدامات نہ کیے تو ملکی معیشت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے، جس کے اثرات عوام کی زندگیوں پر بھی پڑیں گے۔
حکومت نے اس معاملے پر ابھی تک کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا ہے، جس کی وجہ سے عوام میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ عوامی حلقوں میں یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ حکومت اس سنگین مسئلے کا حل کیسے نکالے گی اور کیا وہ مالیاتی اصلاحات کے ذریعے اس بڑھتے ہوئے قرضے کو کنٹرول کرنے میں کامیاب ہو سکے گی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے بروقت اقدامات نہیں کیے تو نہ صرف معیشت کی ترقی میں رکاوٹیں آئیں گی بلکہ عوام کی زندگیوں میں بھی مشکلات بڑھیں گی۔ اس وقت پاکستان کو ایک جامع اور مؤثر مالیاتی حکمت عملی کی ضرورت ہے تاکہ وہ اس بڑھتے ہوئے قرضے کے بوجھ سے نکل سکے اور معیشت کی بحالی کی راہ ہموار کر سکے۔
یہ صورتحال نہ صرف اقتصادی استحکام کے لیے خطرہ ہے بلکہ ملک کی سماجی و سیاسی استحکام پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ عوامی اعتماد بحال کرنے کے لیے فوری اقدامات کرے اور معیشت کی بہتری کے لیے ٹھوس حکمت عملی مرتب کرے۔
📺 تازہ ترین خبروں کے لیے وینٹیج ایکس نیوز کو فالو کریں — @VantageXNews | vantagexnews.pk