
**پاکستان نے امریکی سفیر کو کشمیر پر بیان پر طلب کر لیا**
اسلام آباد: پاکستان نے امریکی سفیر سرجیو گور کو طلب کر لیا ہے، جس کی وجہ ان کا حالیہ بیان ہے جس میں انہوں نے کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دیا۔ یہ بیان سفیر نے سری نگر کے دورے کے دوران دیا، جس پر پاکستان نے سخت احتجاج کیا ہے۔
پاکستانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سرجیو گور کا یہ بیان نہ صرف پاکستان کے موقف کے خلاف ہے بلکہ یہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی بھی خلاف ورزی ہے۔ وزارت خارجہ نے اس بیان کو “ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے اور اس کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے۔
پاکستان نے اس معاملے پر عالمی برادری سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ کشمیر کے مسئلے پر توجہ دے اور اس کے حل کے لیے موثر اقدامات کرے۔ کشمیر کا مسئلہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک طویل عرصے سے جاری تنازعہ ہے، جس نے دونوں ممالک کے تعلقات کو متاثر کیا ہے۔
امریکی سفیر کے بیان کے بعد پاکستان میں سیاسی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ سیاسی رہنماؤں نے اس بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بھارت کے ساتھ امریکی تعلقات کی ایک مثال ہے، جو کہ پاکستان کے مفادات کے خلاف ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ امریکہ نے کشمیر کے مسئلے پر بھارت کے حق میں بیان دیا ہو، تاہم اس بار پاکستان کی جانب سے فوری ردعمل نے اس معاملے کی حساسیت کو مزید بڑھا دیا ہے۔ پاکستان کی حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ کشمیر کے معاملے پر کسی بھی قسم کی کمپرومائز نہیں کرے گی اور عالمی سطح پر اس مسئلے کو اجاگر کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ اس معاملے پر امریکہ کی جانب سے کیا ردعمل آتا ہے اور آیا یہ دونوں ممالک کے تعلقات پر منفی اثر ڈالے گا یا نہیں۔ بین الاقوامی سطح پر کشمیر کا مسئلہ ایک اہم موضوع ہے، اور اس کے حل کے لیے عالمی برادری کی مداخلت کی ضرورت ہے۔
پاکستانی عوام کی نظریں اس معاملے پر ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ حکومت اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے اور عالمی سطح پر اس کی اہمیت کو اجاگر کرے۔ کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کی پوزیشن واضح ہے، اور اس کی حکومت اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ کشمیر کی آزادی کا حق ہر کشمیری کا ہے۔
📺 تازہ ترین خبروں کے لیے وینٹیج ایکس نیوز کو فالو کریں — @VantageXNews | vantagexnews.pk