بریکنگ نیوز
وینٹیج ایکس نیوز میں خوش آمدید — پاکستان کی سب سے تیز خبریں تازہ ترین خبروں کے لیے وینٹیج ایکس نیوز کو فالو کریں وینٹیج ایکس نیوز میں خوش آمدید — پاکستان کی سب سے تیز خبریں
PKR/USD282.50▲ 0.3%
KSE-100115,420▲ 1.2%
CRUDE OIL$78.20▼ 0.8%
GOLD$1,986▲ 0.5%
PKR/SAR75.30▼ 0.1%
PKR/AED76.90▲ 0.2%
PKR/USD282.50▲ 0.3%
KSE-100115,420▲ 1.2%
پاکستان

سندھ میں کربلا کی یاد منائی گئی

👁 64 مناظر
Iraqi Shiites take part in commemorations marking the mourning period of Ashura in the shrine of Imam Abbas, on October 10, 2016 in the holy city of Karbala. The religious festival of Ashura, which includes a ten-day mourning period, commemorates the seventh century slaying of Prophet Mohammed's grandson Imam Hussein in Karbala in Iraq. / AFP PHOTO / Mohammed SAWAF
سندھ میں کربلا کی یاد منائی گئی

**سندھ میں کربلا کی یاد: چہلم کے موقع پر لاکھوں عزاداروں کی شرکت**

سندھ بھر میں عاشقانِ حسین نے کربلا کے شہداء کی یاد میں چہلم منایا، جس میں لاکھوں عزاداروں نے بھرپور شرکت کی۔ منگل کے روز سندھ کے مختلف شہروں، خاص طور پر کراچی، حیدرآباد، سکھر اور نوابشاہ میں ماتمی جلوس نکالے گئے، جہاں عزاداروں نے حضرت امام حسین (ع) اور ان کے ساتھیوں کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ یہ جلوس نہ صرف مذہبی عقیدت کا اظہار تھے بلکہ ایک اجتماعی اتحاد کی علامت بھی تھے۔

جلوسوں کے دوران سیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ سندھ حکومت نے جلوسوں کے راستوں پر پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تعینات کی تھی۔ سیکیورٹی فورسز نے عزاداروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے خصوصی چیک پوسٹیں قائم کیں اور اس بات کو یقینی بنایا کہ جلوسوں کے دوران کسی بھی قسم کی بدامنی نہ ہو۔

عزاداروں نے ماتمی نوحے اور مرثیے پڑھ کر شہداء کربلا کو یاد کیا۔ اس موقع پر علماء کرام نے بھی اپنی تقاریر میں حضرت امام حسین (ع) کی قربانیوں کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور ان کے پیغام کو عام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ امام حسین (ع) کا پیغام صرف ایک مذہبی واقعہ نہیں بلکہ انسانی حقوق، انصاف اور ظلم کے خلاف جدوجہد کی ایک مثال ہے۔

یہ چہلم کا موقع نہ صرف مذہبی لحاظ سے اہم ہے بلکہ اس نے معاشرتی سطح پر بھی ایک مثبت اثر چھوڑا ہے۔ عزاداری کے اس عمل نے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے اور بھائی چارے کو فروغ دینے کا کام کیا ہے۔ مختلف مکاتب فکر کے لوگ ایک ہی جگہ جمع ہوکر ایک ہی مقصد کے لئے دعا گو ہوئے، جس سے یہ ثابت ہوا کہ محبت اور اتحاد کی طاقت ہمیشہ غالب آتی ہے۔

اس سال چہلم کے موقع پر کئی مقامات پر طبی کیمپ بھی لگائے گئے تھے، جہاں عزاداروں کو طبی امداد فراہم کی گئی۔ یہ اقدام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عزاداری کے ساتھ ساتھ لوگوں کی صحت کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔

اس موقع پر، مقامی حکومت نے بھی عوامی خدمات کو بہتر بنانے کے لئے مختلف اقدامات کئے، تاکہ عزاداروں کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس طرح کے اقدامات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت عوامی مسائل کے حل کے لئے سنجیدہ ہے اور مذہبی تہواروں کے دوران عوام کی سہولت کو مقدم رکھتی ہے۔

اس طرح، سندھ میں چہلم کا یہ موقع نہ صرف مذہبی عقیدت کا اظہار تھا بلکہ ایک اجتماعی اتحاد، بھائی چارے اور انسانی حقوق کے پیغام کو فروغ دینے کا ذریعہ بھی بنا۔ یہ ایک یادگار لمحہ تھا جو عزاداروں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔

📺 تازہ ترین خبروں کے لیے وینٹیج ایکس نیوز کو فالو کریں — @VantageXNews | vantagexnews.pk