
**بھارتی سفیر کی پاکستان پر تنقید: سندھ طاس معاہدے کی بنیادوں پر الزامات**
بھارت کے امریکہ میں سفیر ونے موہن کواترا نے حالیہ ایک بیان میں پاکستان پر سخت تنقید کی ہے، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان نے سندھ طاس معاہدے کی بنیادوں کو گزشتہ پانچ دہائیوں کے دوران نقصان پہنچایا ہے۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان پانی کے مسائل پر کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے، جس نے خطے میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔
کواترا نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ پاکستان کو پہلے دہشتگردی کے ڈھانچے کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق، اگر پاکستان اپنے اندرونی مسائل پر توجہ دے تو اس سے نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری آئے گی بلکہ خطے میں امن و امان کی صورتحال بھی بہتر ہو سکتی ہے۔ بھارتی سفیر کا یہ بیان اس وقت آیا ہے جب سندھ طاس معاہدے کے تحت پانی کی تقسیم کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان تنازعات بڑھ رہے ہیں۔
سندھ طاس معاہدہ 1960 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان طے پایا تھا، جس کے تحت دریاؤں کے پانی کی تقسیم کا تعین کیا گیا تھا۔ تاہم، بھارت کی جانب سے پانی کی فراہمی میں کمی اور مختلف ڈیموں کی تعمیر نے پاکستان میں تشویش پیدا کر رکھی ہے۔ پاکستانی حکام نے بھارتی سفیر کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ اس معاہدے کی پاسداری کی ہے اور اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا ہے۔
پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ “ہم نے ہمیشہ سندھ طاس معاہدے کی پاسداری کی ہے اور اس کی روح کے مطابق عمل کیا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان پانی کے مسائل پر بات چیت کی ضرورت ہے تاکہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے اور ایک مثبت ماحول پیدا کیا جا سکے۔
یہ صورتحال نہ صرف پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات پر اثر انداز ہو رہی ہے بلکہ اس کے اثرات خطے کی دیگر ریاستوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دونوں ممالک اس مسئلے کو حل کرنے میں ناکام رہے تو اس کے نتیجے میں نہ صرف پانی کی قلت بلکہ دیگر معاشی مسائل بھی جنم لے سکتے ہیں۔
اس پس منظر میں، دونوں ممالک کو چاہیے کہ وہ اپنے اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں اور ایک ایسا ماحول پیدا کریں جہاں دونوں طرف کے مفادات کا خیال رکھا جا سکے۔ پانی کی کمی اور اس کے اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے، یہ ضروری ہے کہ دونوں ممالک مل کر ایک مشترکہ حل تلاش کریں تاکہ خطے میں امن و استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔
📺 تازہ ترین خبروں کے لیے وینٹیج ایکس نیوز کو فالو کریں — @VantageXNews | vantagexnews.pk