
**بھارت نے ناروے کے وزیر کے کشمیر پر بیان کو مسترد کر دیا**
نئی دہلی: بھارت نے ناروے کے وزیر خارجہ اسپین بارٹ ایڈے کے کشمیر پر دیے گئے حالیہ بیان کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ناروے کے وزیر اسلام آباد کے دورے پر تھے، جہاں انہوں نے کشمیر کے مسئلے پر بات چیت کی تھی۔ بھارت نے اس بیان کو غیر ضروری اور غیر مناسب قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ اس کا اندرونی معاملہ ہے اور اس پر کسی بھی بین الاقوامی مداخلت کی ضرورت نہیں۔
نئی دہلی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ عالمی برادری کی توجہ کشمیر کے بجائے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ہونے والے مظالم کی طرف مبذول کرانی چاہیے۔ بھارت کا یہ مؤقف ہے کہ پاکستان کو اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا جوابدہ ہونا چاہیے، اور اس مسئلے کو عالمی سطح پر اٹھانے کی کوششیں ناکام ہوں گی۔
ناروے کے وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر آنا چاہیے۔ اس تجویز پر بھارت نے سخت ردعمل ظاہر کیا، اور کہا کہ کشمیر میں امن و امان کی بحالی کے لیے پاکستان کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی ہوں گی۔ بھارت کا یہ مؤقف ہے کہ پاکستان کی جانب سے سرحد پار دہشت گردی اور علیحدگی پسند تحریکوں کی حمایت نے کشمیر کے مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
یہ بیان اس وقت آیا ہے جب کشمیر میں انسانی حقوق کی صورت حال پر بین الاقوامی توجہ بڑھ رہی ہے۔ بھارت کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ اس کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا حصہ ہے، اور کسی بھی غیر ملکی مداخلت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ بھارت کی حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ کشمیر کے مسئلے کو دوطرفہ مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے تیار ہے، لیکن اس کے لیے پاکستان کو اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لانی ہوگی۔
اس صورتحال کے پس منظر میں، یہ بات بھی اہم ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں کشیدگی برقرار ہے، اور دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کے امکانات کم نظر آ رہے ہیں۔ ناروے کے وزیر کے بیان نے اس کشیدگی میں مزید اضافہ کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں مزید تناؤ پیدا ہو سکتا ہے۔
بھارت کی جانب سے اس بیان کو مسترد کرنے کے بعد، بین الاقوامی سطح پر کشمیر کے مسئلے پر بحث و مباحثہ جاری رہے گا، اور یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا اس مسئلے کا کوئی پائیدار حل نکل پائے گا یا نہیں۔
📺 تازہ ترین خبروں کے لیے وینٹیج ایکس نیوز کو فالو کریں — @VantageXNews | vantagexnews.pk