بریکنگ نیوز
وینٹیج ایکس نیوز میں خوش آمدید — پاکستان کی سب سے تیز خبریں تازہ ترین خبروں کے لیے وینٹیج ایکس نیوز کو فالو کریں وینٹیج ایکس نیوز میں خوش آمدید — پاکستان کی سب سے تیز خبریں
PKR/USD282.50▲ 0.3%
KSE-100115,420▲ 1.2%
CRUDE OIL$78.20▼ 0.8%
GOLD$1,986▲ 0.5%
PKR/SAR75.30▼ 0.1%
PKR/AED76.90▲ 0.2%
PKR/USD282.50▲ 0.3%
KSE-100115,420▲ 1.2%
دنیا

بھارت نے سندھ طاس معاہدے کی بحالی کا حکم مسترد کیا

👁 60 مناظر
Pakistani Foreign Minister Khawaja Asif attends a meeting with his Russian counterpart Sergei Lavrov in Moscow, Russia February 20, 2018. REUTERS/Maxim Shemetov/ File Photo
بھارت نے سندھ طاس معاہدے کی بحالی کا حکم مسترد کیا

**بھارت نے سندھ طاس معاہدے کی بحالی کا حکم مسترد کر دیا**

بھارت نے دی ہیگ کی مستقل عدالت برائے ثالثی کے حالیہ فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ 1960 کے سندھ طاس معاہدے کو برقرار رکھنے کی ہدایت کو نظرانداز کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پانی کے مسئلے پر کشیدگی میں اضافہ ہونے کا خدشہ ہے، جو پہلے ہی ایک حساس اور پیچیدہ معاملہ ہے۔

سندھ طاس معاہدہ، جو 1960 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان طے پایا تھا، دونوں ممالک کے درمیان دریاؤں کے پانی کی تقسیم کے حوالے سے ایک اہم قانونی دستاویز ہے۔ اس معاہدے کے تحت، بھارت کو تین مشرقی دریاؤں (راوی، بیاس، اور ستلج) کا استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے، جبکہ پاکستان کو تین مغربی دریاؤں (سندھ، جہلم، اور چناب) کا کنٹرول حاصل ہے۔ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان پانی کی تقسیم کو منظم کرنے کے لیے بنایا گیا تھا، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس پر عمل درآمد میں مشکلات اور تنازعات سامنے آتے رہے ہیں۔

بھارت کی جانب سے اس حکم کو مسترد کرنے کے بعد پاکستان کی حکومت نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ نہ صرف سندھ طاس معاہدے کی حیثیت کو کمزور کرتا ہے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان پانی کے مسائل کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ پاکستان نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے پر توجہ دے اور بھارت پر زور دے کہ وہ معاہدے کی پاسداری کرے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کا یہ اقدام نہ صرف دوطرفہ تعلقات پر منفی اثر ڈالے گا بلکہ خطے میں پانی کی قلت کے مسائل کو بھی exacerbate کر سکتا ہے۔ پانی کی کمی کے باعث دونوں ممالک میں زراعت، معیشت اور انسانی زندگیوں پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، اگر دونوں ممالک کے درمیان پانی کی تقسیم کے حوالے سے مسائل حل نہ ہوئے تو یہ علاقائی امن و استحکام کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔

پاکستانی حکومت نے اس صورتحال کے پیش نظر بین الاقوامی فورمز پر آواز بلند کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ عالمی برادری اس معاملے میں مداخلت کرے اور بھارت کو معاہدے کی پاسداری پر آمادہ کرے۔ اس کے علاوہ، پاکستان نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائے گا۔

اس صورتحال کے تناظر میں، ماہرین کا خیال ہے کہ دونوں ممالک کو مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کا حل تلاش کرنا چاہیے، تاکہ نہ صرف سندھ طاس معاہدے کی اہمیت کو برقرار رکھا جا سکے بلکہ خطے میں امن و استحکام کو بھی یقینی بنایا جا سکے۔ بھارت کے اس فیصلے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پانی کے مسئلے پر جو نئی کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے، اس کا اثر دونوں ممالک کی اقتصادی ترقی اور عوامی زندگیوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔

📺 تازہ ترین خبروں کے لیے وینٹیج ایکس نیوز کو فالو کریں — @VantageXNews | vantagexnews.pk