
**سونے کی قیمتوں میں اضافہ: عوام کی قوت خرید متاثر**
اسلام آباد: آج بروز جمعہ، 7 اگست 2026 کو پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ 24 قیراط سونے کی قیمت 437,000 پاکستانی روپے فی تولہ جبکہ 22 قیراط سونے کی قیمت 400,689 پاکستانی روپے فی تولہ مقرر کی گئی ہے۔ یہ اضافہ عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے کے سبب ہوا ہے، جس نے ملکی مارکیٹ پر بھی اثر ڈالا ہے۔
ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ سونے کی قیمتوں میں یہ اضافہ عالمی اقتصادی حالات کی عکاسی کرتا ہے، خاص طور پر جب سے دنیا بھر میں مختلف ممالک کی کرنسیوں کی قدر میں کمی واقع ہوئی ہے۔ اس کے نتیجے میں سونے کی طلب میں اضافہ ہوا ہے، جس نے قیمتوں کو مزید بڑھانے میں کردار ادا کیا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا اثر ہمیشہ سے مقامی مارکیٹ پر پڑتا ہے، اور اس بار بھی یہی صورتحال دیکھنے میں آئی ہے۔
پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں اضافے کا اثر زیورات کی صنعت پر بھی پڑے گا، جہاں پہلے ہی مہنگائی کے باعث کاروبار متاثر ہو رہا ہے۔ زیورات کے تاجروں کا کہنا ہے کہ اس اضافے کی وجہ سے ان کی فروخت میں کمی آ سکتی ہے، کیونکہ عوام کی قوت خرید میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ، سونے کی قیمتوں میں اضافے کے باعث عوام میں تشویش پائی جاتی ہے، کیونکہ یہ عام آدمی کے لیے ایک اہم سرمایہ کاری کا ذریعہ ہے۔ جب سونے کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو لوگ اپنی بچتوں کے بارے میں فکر مند ہو جاتے ہیں، جس کا براہ راست اثر ان کی معیشت پر پڑتا ہے۔
حکومت کو اس معاملے پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ عوامی سطح پر ریلیف فراہم کرنے کے لیے حکومتی اقدامات ضروری ہیں تاکہ عوام کی مشکلات میں کمی لائی جا سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے اس صورتحال پر قابو نہ پایا تو آئندہ دنوں میں سونے کی قیمتوں میں مزید اضافہ متوقع ہے، جو عوام کو مزید مشکلات کا سامنا کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔
اس صورتحال نے نہ صرف سرمایہ کاروں بلکہ عام لوگوں کے لیے بھی تشویش کی لہر پیدا کر دی ہے۔ عوام کی خواہش ہے کہ حکومت اس مسئلے کا فوری حل نکالے تاکہ سونے کی قیمتوں میں استحکام لایا جا سکے اور عوام کی قوت خرید کو بحال کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ، حکومت کو چاہیے کہ وہ عوامی آگاہی مہمات شروع کرے تاکہ لوگ سونے کی خریداری کے حوالے سے بہتر فیصلے کر سکیں۔
📺 تازہ ترین خبروں کے لیے وینٹیج ایکس نیوز کو فالو کریں — @VantageXNews | vantagexnews.pk