بریکنگ نیوز
وینٹیج ایکس نیوز میں خوش آمدید — پاکستان کی سب سے تیز خبریں تازہ ترین خبروں کے لیے وینٹیج ایکس نیوز کو فالو کریں وینٹیج ایکس نیوز میں خوش آمدید — پاکستان کی سب سے تیز خبریں
PKR/USD282.50▲ 0.3%
KSE-100115,420▲ 1.2%
CRUDE OIL$78.20▼ 0.8%
GOLD$1,986▲ 0.5%
PKR/SAR75.30▼ 0.1%
PKR/AED76.90▲ 0.2%
PKR/USD282.50▲ 0.3%
KSE-100115,420▲ 1.2%
صحت

اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کی ایمان مزاری کی صحت پر تشویش

👁 52 مناظر
This picture taken on December 5, 2025 shows human rights lawyer Imaan Mazari (R) with her husband and fellow lawyer Hadi Ali Chattha (L), during a court hearing in Islamabad. Pakistani police arrested a prominent rights activist and her husband on January 23 as they were heading to a court hearing in Islamabad on "cyberterrorism" charges, her family and a lawyers' association said. Imaan Mazari, a 32-year-old lawyer and vocal critic of Pakistan's military, faces a dozen charges but it was not immediately clear if Friday's detention was related to any of them. (Photo by Aamir QURESHI / AFP)
اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کی ایمان مزاری کی صحت پر تشویش

**اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کی ایمان مزاری کی صحت پر تشویش**

اسلام آباد: اسلام آباد بار ایسوسی ایشن نے معروف وکیل ایمان مزاری اور ان کے ساتھی ہادی علی چٹھہ کی صحت کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بار ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ دونوں افراد کی صحت کے حوالے سے موصول ہونے والی اطلاعات نہ صرف تشویشناک ہیں بلکہ ان کے حقوق کی حفاظت کے لئے فوری اقدامات کی ضرورت بھی محسوس کی جا رہی ہے۔

ایمان مزاری، جو کہ انسانی حقوق کی ایک معروف وکیل ہیں، حالیہ دنوں میں مختلف قانونی مسائل میں ملوث رہی ہیں۔ ان کی صحت کی بگڑتی ہوئی صورتحال نے نہ صرف قانونی حلقوں میں تشویش پیدا کی ہے بلکہ عام عوام میں بھی ان کے تئیں فکر مندی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ بار ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر ان کی صحت کی صورتحال کا جائزہ لے اور ان کی طبی امداد کو یقینی بنائے۔

اس معاملے پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی آواز اٹھائی ہے۔ ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی صحت کے حوالے سے شفاف تحقیقات کی ضرورت ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ آیا ان کی صحت کی بگڑتی ہوئی صورتحال کسی بھی قسم کی ناانصافی یا غیر انسانی سلوک کا نتیجہ تو نہیں ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے میں فوری اور مؤثر اقدامات کرے تاکہ متاثرہ افراد کو ان کے حقوق کی بحالی ممکن ہو سکے۔

عوامی حلقوں میں بھی اس معاملے پر تشویش پائی جاتی ہے۔ سوشل میڈیا پر مختلف صارفین نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لے اور فوری اقدامات کرے۔ عوامی تشویش کا یہ عالم ہے کہ لوگ اس بات کی توقع رکھتے ہیں کہ حکومت نہ صرف ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی صحت کی بحالی کے لئے اقدامات کرے گی بلکہ اس معاملے میں شفافیت بھی برقرار رکھے گی۔

اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے مزید کہا ہے کہ یہ صرف ایک فرد کی صحت کا معاملہ نہیں ہے بلکہ اس سے انسانی حقوق کی حفاظت اور قانونی نظام کی مضبوطی کا بھی سوال ہے۔ اگر حکومت اس معاملے میں فوری اقدامات نہیں کرتی تو یہ نہ صرف متاثرہ افراد کے لئے نقصان دہ ہوگا بلکہ اس سے قانونی نظام پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی صحت کی بگڑتی ہوئی صورتحال نے ایک بار پھر اس بات کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے انسانی حقوق کی پاسداری کو یقینی بنائیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ کوئی بھی فرد غیر انسانی سلوک کا شکار نہ ہو۔ اس معاملے کی نگرانی اور شفاف تحقیقات کی ضرورت ہے تاکہ آئندہ اس طرح کے واقعات سے بچا جا سکے۔

📺 تازہ ترین خبروں کے لیے وینٹیج ایکس نیوز کو فالو کریں — @VantageXNews | vantagexnews.pk