
**اسلام آباد: پمز اسپتال میں آگ لگنے کے واقعے کے بعد وزیراعظم نے آٹھ افسران کو معطل کر دیا**
اسلام آباد: پاکستان کے دارالحکومت میں واقع پمز اسپتال میں آگ لگنے کے دلخراش واقعے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے آٹھ سینئر افسران کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب ایک تحقیقاتی رپورٹ میں ان افسران کی غفلت اور لاپرواہی کے شواہد سامنے آئے۔ اس حادثے میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت نے پورے ملک کو صدمے میں مبتلا کر دیا ہے، جس نے نہ صرف متاثرہ خاندانوں بلکہ پورے معاشرے میں ایک گہرے دکھ اور غم کی لہر دوڑا دی ہے۔
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، اسپتال کی حفاظتی تدابیر میں سنگین خامیاں تھیں، جن کی وجہ سے یہ سانحہ پیش آیا۔ وزیراعظم نے معطل کیے گئے افسران کے خلاف فوجداری کارروائی کے احکامات بھی جاری کیے ہیں، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ حکومت اس معاملے میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتے گی۔ اس واقعے کے بعد عوامی غم و غصہ بڑھتا جا رہا ہے اور حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ صحت کے نظام میں فوری اصلاحات لائے۔
پمز اسپتال کی انتظامیہ اور متعلقہ حکام کی جانب سے اس واقعے پر خاموشی نے عوامی ردعمل کو مزید بڑھا دیا ہے۔ مختلف سماجی تنظیموں اور شہریوں نے سوشل میڈیا پر احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسپتالوں کی حفاظتی تدابیر کو بہتر بنائے اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کرے۔ اس سانحے نے نہ صرف متاثرہ خاندانوں کی زندگیوں پر اثر ڈالا ہے بلکہ ملک بھر میں صحت کے نظام کی کمزوریوں کو بھی عیاں کر دیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس واقعے کی مکمل تحقیقات کا وعدہ کیا ہے اور مستقبل میں ایسے حادثات کی روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی صحت اور زندگیوں کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
یہ واقعہ نہ صرف صحت کے نظام کی خامیوں کو اجاگر کرتا ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ حکومت کو عوامی خدمات میں بہتری لانے کے لیے فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ عوامی ردعمل میں حکومت سے فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، اور یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ حکومت اس معاملے میں کیا اقدامات کرتی ہے۔
📺 تازہ ترین خبروں کے لیے وینٹیج ایکس نیوز کو فالو کریں — @VantageXNews | vantagexnews.pk