
**کوئٹہ میں کوئلہ کان دھماکہ، 6 ہلاک، 42 مزدور پھنس گئے**
کوئٹہ: بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے جنوب مغربی علاقے میں واقع ایک کوئلہ کان میں دھماکے کے نتیجے میں کم از کم چھ مزدور ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ 42 دیگر مزدور کان کے اندر پھنس گئے ہیں۔ یہ افسوسناک واقعہ میتھین گیس کے دھماکے کی وجہ سے پیش آیا، جس کے نتیجے میں کان کی چھت گر گئی۔
تفصیلات کے مطابق، یہ دھماکہ مقامی وقت کے مطابق صبح کے اوقات میں ہوا، جب مزدور اپنی روزمرہ کی سرگرمیوں میں مصروف تھے۔ دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ کان کی چھت منہدم ہوگئی، جس کے باعث متعدد مزدور ملبے تلے دب گئے۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔
حکومتی ذرائع نے بتایا ہے کہ متاثرہ مزدوروں کی تلاش کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔ حکام نے اس واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
یہ واقعہ بلوچستان میں کان کنی کی صنعت کی حفاظتی صورتحال پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ بلوچستان میں کان کنی کے شعبے میں کام کرنے والے مزدوروں کی زندگیوں کو خطرات کا سامنا ہے، اور اس حادثے نے اس بات کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے کہ حکومت کو فوری طور پر حفاظتی معیارات کو بہتر بنانا ہوگا۔
متاثرہ خاندانوں کے لیے مالی امداد فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے، لیکن متاثرین کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک عارضی حل ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت کان کنی کے شعبے میں مستقل بنیادوں پر حفاظتی اقدامات کو یقینی بنائے تاکہ مستقبل میں ایسے حادثات سے بچا جا سکے۔
یہ واقعہ نہ صرف متاثرہ خاندانوں کے لیے ایک بڑا سانحہ ہے بلکہ یہ بلوچستان کی معیشت اور کان کنی کی صنعت کے لیے بھی ایک بڑا دھچکا ہے۔ حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس حادثے کی شفاف تحقیقات کرے اور ایسے اقدامات اٹھائے جو مزدوروں کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔
اس واقعے نے ایک بار پھر اس بات کو واضح کیا ہے کہ بلوچستان میں کان کنی کے شعبے میں اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ مزدوروں کی زندگیوں کو محفوظ بنایا جا سکے اور ان کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکے۔
📺 تازہ ترین خبروں کے لیے وینٹیج ایکس نیوز کو فالو کریں — @VantageXNews | vantagexnews.pk