
**پی ٹی آئی نے عمران خان کی اسپتال منتقلی کے حکم پر حکومت کی تنقید کی**
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے حکومت کی جانب سے سابق وزیراعظم عمران خان کی اسپتال منتقلی کے سپریم کورٹ کے حکم کو نظرثانی کے لیے چیلنج کرنے کے اقدام پر شدید تنقید کی ہے۔ پی ٹی آئی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام نہ صرف عدلیہ کی آزادی پر حملہ ہے بلکہ یہ عمران خان کی صحت کے حوالے سے بھی ایک خطرناک صورت حال پیدا کر رہا ہے۔
پی ٹی آئی کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ حکومت کی جانب سے اس فیصلے کو چیلنج کرنا ایک غیر قانونی اور غیر اخلاقی عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی صحت کی صورت حال انتہائی نازک ہے اور حکومت کو اس معاملے میں سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر عمران خان کی صحت کو نقصان پہنچتا ہے تو اس کی ذمہ داری براہ راست حکومت پر عائد ہوگی۔
سابق وزیراعظم عمران خان، جو اس وقت جیل میں ہیں، کو طبی وجوہات کی بنا پر اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد حکومت کی جانب سے نظرثانی کی درخواست نے پی ٹی آئی کے رہنماؤں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ پی ٹی آئی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عدلیہ کے فیصلے کا احترام کرے اور عمران خان کو فوری طور پر اسپتال منتقل کرے تاکہ ان کی صحت کو مزید خطرہ لاحق نہ ہو۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کا یہ اقدام نہ صرف عدلیہ کی آزادی کے لیے خطرہ ہے بلکہ یہ ملک میں سیاسی عدم استحکام کا بھی باعث بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے اس معاملے میں جلدی نہ کی تو اس کے سیاسی اثرات دور رس ہو سکتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے پر اپنی آواز بلند کریں اور حکومت پر دباؤ ڈالیں کہ وہ عمران خان کی صحت کا خیال رکھے۔
عمران خان کی صحت کے حوالے سے بڑھتی ہوئی تشویش نے ملک بھر میں ان کے حامیوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے عوامی اجتماعات میں اس مسئلے کو اٹھایا ہے اور حکومت کے خلاف احتجاج کی دھمکی دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے فوری طور پر کارروائی نہ کی تو وہ اس کے خلاف بھرپور تحریک چلائیں گے۔
اس صورتحال میں، عوامی رائے اور سیاسی دباؤ کے اثرات حکومت کی پالیسیوں پر واضح طور پر نظر آ رہے ہیں۔ پی ٹی آئی نے ایک بار پھر حکومت کو یاد دلایا ہے کہ عوام کی صحت اور زندگیوں کا تحفظ ہر صورت میں اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
📺 تازہ ترین خبروں کے لیے وینٹیج ایکس نیوز کو فالو کریں — @VantageXNews | vantagexnews.pk