
**پشاور میں پی ٹی آئی جلسے پر گورنر خیبر پختونخوا کی تنقید**
پشاور: خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 5 اگست کو پشاور میں ہونے والے جلسے کو بے معنی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی کو عوامی مسائل پر توجہ دینی چاہیے، بجائے اس کے کہ وہ جلسے منعقد کرنے میں وقت ضائع کرے۔ گورنر نے یہ بیان اس وقت دیا جب پی ٹی آئی نے اپنے سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے عوامی رابطہ مہم کا آغاز کیا ہے۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے اپنے بیان میں کہا کہ حکومت عوام کی خدمت کے لیے پرعزم ہے اور اس وقت ملک کو درپیش مسائل کی شدت کو دیکھتے ہوئے پی ٹی آئی کو بھی چاہیے کہ وہ عوامی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی جماعتوں کا اصل مقصد عوام کی فلاح و بہبود ہونا چاہیے، نہ کہ صرف سیاسی جلسوں کے ذریعے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنا۔
دوسری جانب، پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے گورنر کے اس بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جلسہ دراصل عوامی رابطہ مہم کا ایک اہم حصہ ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اس جلسے کا مقصد عوام کو پارٹی کی پالیسیوں سے آگاہ کرنا اور انہیں موجودہ حکومت کی ناکامیوں سے آگاہ کرنا ہے۔ گوہر علی خان نے کہا کہ عوامی مسائل پر بات چیت کرنا اور ان کے حل کے لیے آواز اٹھانا ایک جمہوری حق ہے، جسے کوئی بھی سیاسی جماعت نظر انداز نہیں کر سکتی۔
یہ تنقید اور اس کے جواب میں دونوں جماعتوں کے درمیان سیاسی کشیدگی کی علامت ہیں۔ گورنر کے بیان نے پی ٹی آئی کے حامیوں میں بے چینی پیدا کی ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے عوامی خدمات کے وعدے کو بھی چیلنج کیا گیا ہے۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کی تنقیدیں سیاسی ماحول کو مزید گرم کر سکتی ہیں، خاص طور پر جب ملک معاشی بحران اور دیگر چیلنجز کا سامنا کر رہا ہو۔
اس کے علاوہ، اس جلسے کے اثرات بھی دور رس ہو سکتے ہیں، کیونکہ یہ پی ٹی آئی کی عوامی مقبولیت کو متاثر کر سکتا ہے۔ اگرچہ پی ٹی آئی نے اپنی مہم کو جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے، لیکن گورنر کے بیان نے اس بات پر سوالات اٹھائے ہیں کہ کیا واقعی عوامی مسائل کی طرف توجہ دی جا رہی ہے یا صرف سیاسی مفادات کے لیے جلسے منعقد کیے جا رہے ہیں۔
اس صورتحال میں، عوامی رائے اور سیاسی جماعتوں کی سرگرمیاں آئندہ کے سیاسی منظرنامے پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہیں، جس کی نگرانی سیاسی تجزیہ کاروں اور عوام دونوں کی جانب سے کی جا رہی ہے۔
📺 تازہ ترین خبروں کے لیے وینٹیج ایکس نیوز کو فالو کریں — @VantageXNews | vantagexnews.pk