
پاکستان میں ایک 13 سالہ عیسائی لڑکی، جو اغوا، زبردستی مذہب تبدیل کرنے اور 30 سالہ اغواکار سے شادی کرنے پر مجبور کی گئی تھی، انصاف کی تلاش میں ہے۔ یہ واقعہ پاکستان میں اقلیتی برادریوں کے حقوق کے حوالے سے سوالات اٹھاتا ہے۔ لڑکی کے والدین نے عدالت میں درخواست دائر کی ہے اور حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ ان کی بیٹی کو انصاف فراہم کرے۔ اس واقعے نے انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھی متحرک کر دیا ہے، جو حکومت سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ وہ اقلیتی برادریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات کرے۔ حکومت نے اس واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے اور کہا ہے کہ اگر الزام ثابت ہوا تو ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ عوام نے بھی اس واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے اور انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔
📺 تازہ ترین خبروں کے لیے وینٹیج ایکس نیوز کو فالو کریں — @VantageXNews | vantagexnews.pk