
**وکلاء ایکشن کمیٹی کا ججز تقرری پر احتجاج: ملک گیر تحریک کا اعلان**
اسلام آباد: وکلاء ایکشن کمیٹی نے ججز کی تقرری کے عمل کو ‘ہارس ٹریڈنگ’ قرار دیتے ہوئے ملک بھر میں احتجاجی تحریک کا اعلان کیا ہے۔ وکلاء نے اس بات پر زور دیا ہے کہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (جے سی پی) کے تحت ججز کی تقرری کے عمل میں شفافیت کی کمی ہے اور اس عمل کو فوری طور پر بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
وکلاء کا کہنا ہے کہ موجودہ نظام میں ججز کی تقرری کے فیصلے میں سیاسی مداخلت اور غیر شفافیت نے عدلیہ کی خودمختاری کو متاثر کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ اس طرح کی صورتحال سے انصاف کی فراہمی میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں، جس کے نتیجے میں عوام کا عدلیہ پر اعتماد کمزور ہو رہا ہے۔ وکلاء نے واضح کیا کہ وہ اس مسئلے کے خلاف احتجاج جاری رکھیں گے اور ملک بھر میں عدالتوں کے باہر دھرنے دیں گے۔
اس تحریک کا بنیادی مقصد عدلیہ میں شفافیت اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ وکلاء نے اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس مسئلے پر عوامی آگاہی بڑھائیں گے اور عدلیہ کے اندر اصلاحات کے لیے کوششیں کریں گے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لے اور ججز کی تقرری کے عمل میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کرے۔
حکومت نے وکلاء کے احتجاج کے بعد اس معاملے کو سنجیدگی سے لینے کا عندیہ دیا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق، حکومت نے کہا ہے کہ وہ عدلیہ کے ساتھ مل کر اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس کے علاوہ، حکومت نے وکلاء کے ساتھ بات چیت کے ذریعے اس مسئلے کے حل کے لیے ایک کمیٹی قائم کرنے کی تجویز دی ہے۔
یہ احتجاج اس وقت ہوا ہے جب ملک میں عدلیہ کے نظام پر عوامی اعتماد میں کمی آ رہی ہے۔ وکلاء کے اس اقدام نے نہ صرف عدلیہ کی خودمختاری کے حوالے سے سوالات اٹھائے ہیں بلکہ یہ بھی واضح کیا ہے کہ وکلاء برادری عدلیہ کے اندر اصلاحات کے لیے کتنی سنجیدہ ہے۔ اگرچہ حکومت نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لینے کا وعدہ کیا ہے، لیکن یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یہ وعدے عملی شکل اختیار کر سکیں گے یا نہیں۔
وکلاء کی اس تحریک کے اثرات دور رس ہو سکتے ہیں، خاص طور پر اگر یہ ملک بھر میں عوامی حمایت حاصل کر لے۔ اس کے نتیجے میں عدلیہ میں اصلاحات کی ضرورت اور اہمیت کو اجاگر کیا جا سکتا ہے، جو کہ ملک کی قانونی نظام کی بہتری کے لیے ضروری ہے۔ وکلاء کی یہ تحریک ایک نئے دور کا آغاز ہو سکتی ہے، جہاں عدلیہ کی خودمختاری اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔
📺 تازہ ترین خبروں کے لیے وینٹیج ایکس نیوز کو فالو کریں — @VantageXNews | vantagexnews.pk