بریکنگ نیوز
وینٹیج ایکس نیوز میں خوش آمدید — پاکستان کی سب سے تیز خبریں تازہ ترین خبروں کے لیے وینٹیج ایکس نیوز کو فالو کریں وینٹیج ایکس نیوز میں خوش آمدید — پاکستان کی سب سے تیز خبریں
PKR/USD282.50▲ 0.3%
KSE-100115,420▲ 1.2%
CRUDE OIL$78.20▼ 0.8%
GOLD$1,986▲ 0.5%
PKR/SAR75.30▼ 0.1%
PKR/AED76.90▲ 0.2%
PKR/USD282.50▲ 0.3%
KSE-100115,420▲ 1.2%
پاکستان

لاہور میں مسیحی لڑکی کی جبری شادی کی کوشش

👁 25 مناظر
لاہور میں مسیحی لڑکی کی جبری شادی کی کوشش

**لاہور میں مسیحی لڑکی کی جبری شادی کی کوشش: انسانی حقوق کی تنظیموں کا احتجاج**

لاہور سے ایک افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے جس نے نہ صرف متاثرہ خاندان بلکہ پورے مسیحی برادری کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ 16 سالہ مسیحی لڑکی، عنیقہ اسحاق، کو جبری شادی کی کوشش کا سامنا کرنا پڑا، جب ایک ساتھی ملازم نے اسے شادی کے لیے مجبور کرنے کی کوشش کی۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب عنیقہ نے اپنے خاندان کی مالی مدد کے لیے ایک مقامی ریسٹورنٹ میں کیشیئر کی ملازمت اختیار کی۔

عینی شاہدین کے مطابق، عنیقہ کے ساتھی ملازم نے اس کی کم عمری اور کمزور مالی حالت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے دباؤ میں لانے کی کوشش کی۔ یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب عنیقہ نے اس کی پیشکش کو مسترد کر دیا اور اس کے بعد اس کے والدین نے پولیس میں شکایت درج کرائی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ نہ صرف ان کی بیٹی کے لیے بلکہ پورے مسیحی برادری کے لیے خطرہ ہے۔

اس واقعے نے انسانی حقوق کی تنظیموں کی توجہ بھی اپنی طرف مبذول کر لی ہے۔ مختلف تنظیموں نے حکومت سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اس طرح کے واقعات کو روکنے کے لیے سخت قوانین کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، اور اس معاملے میں فوری انصاف فراہم کرنا ضروری ہے۔

عینی شاہدین اور متاثرہ خاندان کی جانب سے دی گئی معلومات کے مطابق، عنیقہ کے والدین نے اس واقعے کے بعد خوف و ہراس کا شکار ہو گئے ہیں۔ وہ اس بات سے پریشان ہیں کہ آیا ان کی بیٹی کو مزید خطرات کا سامنا کرنا پڑے گا یا نہیں۔ اس واقعے نے ملک میں اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے ایک بار پھر سوالات اٹھا دیے ہیں، خاص طور پر جب کہ پاکستان میں اقلیتوں کے خلاف تشدد اور جبری شادیوں کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

حکومت کی جانب سے اس معاملے پر ابھی تک کوئی واضح ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، لیکن عوامی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ مختلف سماجی اور سیاسی حلقوں نے اس واقعے کی مذمت کی ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کرے اور متاثرہ خاندان کو تحفظ فراہم کرے۔

اس واقعے کے بعد دیگر اقلیتی برادریوں میں بھی خوف و ہراس پھیل گیا ہے، اور لوگ اس بات سے پریشان ہیں کہ آیا ان کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا یا نہیں۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ حکومت اس معاملے کو کس طرح حل کرتی ہے اور کیا اقدامات اٹھاتی ہے تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر اس بات کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔

📺 تازہ ترین خبروں کے لیے وینٹیج ایکس نیوز کو فالو کریں — @VantageXNews | vantagexnews.pk