بریکنگ نیوز
وینٹیج ایکس نیوز میں خوش آمدید — پاکستان کی سب سے تیز خبریں تازہ ترین خبروں کے لیے وینٹیج ایکس نیوز کو فالو کریں وینٹیج ایکس نیوز میں خوش آمدید — پاکستان کی سب سے تیز خبریں
PKR/USD282.50▲ 0.3%
KSE-100115,420▲ 1.2%
CRUDE OIL$78.20▼ 0.8%
GOLD$1,986▲ 0.5%
PKR/SAR75.30▼ 0.1%
PKR/AED76.90▲ 0.2%
PKR/USD282.50▲ 0.3%
KSE-100115,420▲ 1.2%
پاکستان

جسٹس مسرت ہلالی کی ریٹائرمنٹ پر خراج تحسین

👁 44 مناظر
جسٹس مسرت ہلالی کی ریٹائرمنٹ پر خراج تحسین

**جسٹس مسرت ہلالی کی ریٹائرمنٹ: ایک عہد کا اختتام اور خدمات کا اعتراف**

آج سپریم کورٹ آف پاکستان میں ایک اہم تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں جسٹس مسرت ہلالی کی ریٹائرمنٹ کے موقع پر فل کورٹ ریفرنس منعقد ہوا۔ یہ تقریب نہ صرف ان کی عدالتی خدمات کا اعتراف کرنے کے لئے تھی بلکہ یہ ایک عہد کے اختتام کی علامت بھی تھی۔ جسٹس ہلالی نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں کئی اہم فیصلے دیے، جو پاکستان کی عدلیہ کی تاریخ میں نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔

جسٹس مسرت ہلالی نے 2004 میں سپریم کورٹ کے جج کی حیثیت سے حلف اٹھایا اور اس کے بعد سے انہوں نے عدلیہ میں کئی اہم مقدمات میں فیصلہ سازی کی۔ ان کے فیصلوں نے نہ صرف قانونی نظام کو متاثر کیا بلکہ عوامی زندگی میں بھی مثبت تبدیلیاں لانے میں مدد فراہم کیں۔ ان کی عدلیہ میں خدمات نے انہیں ایک معتبر اور قابل احترام شخصیت بنا دیا، جس کی مثالیں آج بھی دی جاتی ہیں۔

تقریب کے دوران چیف جسٹس منیب اختر نے جسٹس ہلالی کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ “جسٹس ہلالی کی ریٹائرمنٹ سے عدلیہ کے حلقوں میں ایک خلا محسوس کیا جائے گا، لیکن ان کے فیصلے ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔” چیف جسٹس نے ان کی قابلیت اور عزم کی تعریف کی اور کہا کہ ان کے فیصلے ہمیشہ آئندہ نسلوں کے لئے رہنمائی کا ذریعہ رہیں گے۔

اس موقع پر سپریم کورٹ کے دیگر ججز اور وکلاء نے بھی جسٹس ہلالی کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ وکلاء نے ان کے ساتھ کام کرنے کے تجربات کا ذکر کیا اور کہا کہ وہ ہمیشہ ایک منصفانہ اور شفاف عدلیہ کے حامی رہے ہیں۔ ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد عدلیہ کے نظام میں نئے ججز کی تقرری کا عمل شروع ہوگا، جو کہ عدلیہ کو مزید مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

جسٹس مسرت ہلالی کی ریٹائرمنٹ کے ساتھ ہی ایک عہد کا اختتام ہوا، لیکن ان کی خدمات اور فیصلے ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ ان کی عدلیہ میں موجودگی نے کئی اہم معاملات میں رہنمائی فراہم کی، اور ان کے جانے سے عدلیہ میں ایک خالی جگہ محسوس کی جا رہی ہے۔ ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ وہ ایک ایسے جج رہے ہیں جنہوں نے انصاف کی راہ میں ہمیشہ اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی نبھایا۔ ان کی مثال آنے والی نسلوں کے لئے مشعل راہ ہوگی۔

📺 تازہ ترین خبروں کے لیے وینٹیج ایکس نیوز کو فالو کریں — @VantageXNews | vantagexnews.pk